خرید بک لینک
کیا حضرت امیر معاویہ کی خطا اجتہادی تھی ؟ اہل سنت کی تحریر۔۔۔۔۔انجینر محمد علی مرزا علامہ بدرالدین عینی رحمہ اللہ کے حوالے سے لکھتے ہیں: امام بدرالدین عینی رحمہ اللہ (المتوفی ۸۵۵ھ) لکھتے ہیں: مام کرمانی رحمہ اللہ نے کہا کہ سید نا علی ع اور معاویہ دونوں مجتہد تھے، زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ حضرت معاویہ کو اجتہاد میں خطاء لاحق ہوگئی ، اُن کو ایک اجر ملے گا، جب کہ سیدنا علی ع کو دو اجر ملیں گے ۔ ( اس پر امام بدر الدین عینی حنفی رحمہ اللہ کہتے ہیں ) میں کہتا ہوں کہ معاویہ کی خطاء کو اجتہادی خطاء کیسے کہہ دیا جائے اور اُن کے اجتہاد پر کیا دلیل ہے؟ حالاں کہ اُن کو یہ حدیث جو کہ صحیح بخاری اور مسلم میں موجود ہے پہنچ چکی تھی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فرمایا ہے : " افسوس عمار کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی اور اُن کو معاویہ کے گروہ نے ( جنگ صفین میں قتل کیا ۔ کیا معاویہ اس پر راضی نہیں اُن کو برابر چھوڑ دیا جائے ، چہ جائے کہ اُن کو ایک ااجر بھی ملے۔یہ بات درست ہے امام عینی ، علامہ شوکانی علامہ رشید رضا مصری ، علامہ امیر عمائی ، نواب صدیق حسن خان وغیرہ نے امیر معاویہ رکی خطا کو اجتہادی نہیں سمجھا ہے مگر جمہور محدثین نے اس خطا کو اجتہادی خطا سمجھا ہے۔ اہل سنت کا انتہائی محتاط ، راج اور اجماعی موقف یہ ہے کہ حضرت علی ع کے خلاف معاویہ کا خروج کسی ذاتی عداوت و نفرت یا بغض و حسد کی وجہ سے نہیں بلکہ دیانت دارانہ طور پر قرآن و حدیث کی روشنی میں شرعی و فقہی دلائل کی بنیاد پر غلط فہمی کی بنا پر شبہ اور تاویل کی وجہ سے صادر ہوا تھا اس لیے ان کا یہ عمل خطائے اجتہادی کے ذیل میں آتا ہے جس میں بہر حال وہ ایک اجر کے مستحق ہیں۔امام قاضی عیاض رحمہ اللہ کا حوالہ :چناں چہ امام قاضی

برچسب: نویسنده: میلاد هاشمی تاريخ: يکشنبه 10 دی 1402 ساعت: 12:53

صفحه بندی